ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کپل سبل نے کہا، نوٹ بندی سے عام آدمی بہت زیادہ پریشان،عوام کی محنت کی کمائی کوبلیک منی بتادیاگیا؛ اُترپردیش انتخابات میں عوام کریں گے فیصلہ

کپل سبل نے کہا، نوٹ بندی سے عام آدمی بہت زیادہ پریشان،عوام کی محنت کی کمائی کوبلیک منی بتادیاگیا؛ اُترپردیش انتخابات میں عوام کریں گے فیصلہ

Tue, 29 Nov 2016 03:48:37    S.O. News Service

لکھنؤ، 28/نومبر(آئی این ایس انڈیا/ایس او نیوز) کانگریس لیڈراور سابق مرکزی وزیرکپل سبل نے آج دعوی کیا کہ نوٹ بند ی سے ہو رہی پریشانیوں سے جوجھ رہی عوام کانگریس کی طرف رخ کر سکتی ہے اور اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات میں یہ صاف نظر آئے گا۔سبل نے میڈیا سے ایک انٹرویو میں کہاکہ نوٹ بند ی سے عام آدمی کو بہت زیادہ تکلیف ہوئی ہے اور اس کا کانگریس کو سیاسی فائدہ ملے گا، بات اتر پردیش کے انتخابات کی کریں،تو اس فیصلے سے عوام کا ووٹ کانگریس کے حق میں بڑھنا طے ہے۔انہوں نے کہا کہ نوٹ بند ی کا فیصلہ اترپردیش کے اسمبلی انتخابات کو ذہن میں رکھ کر کیا گیا ہے لیکن اس کا غیر متوقع طور پر الٹا اثرہو گا۔ایس پی اور بی ایس پی کی طرف سے مسلمانوں سے یکمشت ان کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کے بارے میں کئے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ مذہب یا ذات کے نام پر ووٹ مانگنا غلط ہے، چاہے ہندو ہو ں یا مسلمان، مذہب کے نام پر ووٹ مانگنا صحیح نہیں ہے،یہ بات صحیح ہے کہ فرقہ پرست طاقتوں کو اقتدار سے دور رکھنے کے لیے سیکولر لوگوں کو متحد ہونا چاہیے، لیکن کوئی مذہب کے نام پر ووٹ مانگے،تویہ غلط ہے۔بہار میں اسمبلی انتخابات کے دوران مہاگٹھ بند ھن کی طرز پر اتر پردیش میں بھی کیا کوئی اتحادبنے گا، اس سوال پر سبل نے کہا کہ اس وقت وہ تجربہ وقت کی ضرورت تھی لیکن اترپردیش میں ویسے حالات نہیں ہیں۔نوٹ بند ی کو عوام کے خلاف لیا گیا فیصلہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے عوام یشانیوں کا سامنا کر رہی ہے لیکن مرکزی حکومت اس پر کوئی دھیان نہیں لے رہی ہے۔صرف اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات جیتنے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ نہیں سوچا کہ عام آدمی بالخصوص کسان روزی روٹی کس طرح کمائے گا۔مزدوروں کا کیا ہوگا؟ تھوک اور خوردہ بازار کیسے چلیں گے؟۔

سبل نے کہاکہ وزیر اعظم نے نوٹ بند ی کا فیصلہ تو لے لیا، لیکن اب انہیں پتہ نہیں چل رہا ہے کہ آگے کیسے بڑھیں، نوٹ بندی کی وجہ اقتصادی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔صرف اتر پردیش کے انتخابات جیتنے کے لیے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا،تاکہ ایک دھماکہ ہو اور وہ (مودی)غریبوں کے مسیحا بن جائیں۔انہوں نے کہا کہ مودی یہ نہیں سمجھ پائے کہ کسانوں، مزدوروں، چائے باغان کے کارکنوں کی روزی روٹی کس طرح چلے گی، وہ یہ نہیں سوچ پائے کہ تھوک اور خوردہ مارکیٹ کس طرح چلے گا۔سبزی والا تو چیک سے پیسے نہیں لے سکتا،ٹرک چلانے والا بھی نہیں۔سبل نے اعدادوشمار کا حوا لہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی 125کروڑ آبادی میں 60کروڑ لوگوں کے پاس بینک اکاؤنٹ ہی نہیں ہیں جبکہ 32کروڑ لوگوں کے بینک اکاؤنٹس میں برسوں سے لین دین نہیں ہوا۔کیا ان کے ہاتھ میں بلیک منی ہے؟ انہوں نے بیرون ملک جمع بلیک منی سے جڑے ناموں کا انکشاف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب حکومت کے پاس فہرست ہے، تو ناموں کو اجاگر کیوں نہیں کرتی؟ سابق مرکزی وزیر اور مشہور وکیل سبل نے کہا کہ جس پارلیمنٹ میں زمین چوم کر سر جھکائے مودی داخل ہوئے تھے، آج اسی پارلیمنٹ میں وزیر اعظم بولنے کی ہمت نہیں جٹا پا رہے ہیں۔ملک کے چوکیدار نے اپنی آنکھیں بند کر لی ہیں، وہ آرام کی نیند سو رہے ہیں، جبکہ غریب آدمی جاگ رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ نوٹ کالا نہیں ہوتا،جو شخص نوٹ کو کالا سمجھے، تو اس کی منشا کالی ہے، دراصل سیاہ تو لین دین ہوتا ہے۔سبل نے کہا کہ وزیر اعظم کو مالی امور کی سمجھ نہیں ہے،غریب آدمی کے ہاتھ میں جو نوٹ ہے، اسے ہی سیاہ بتا دیا،لگام لگانی ہے تو بدعنوان لین دین پر لگام لگائی جائے۔


 


Share: